Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
59 - 479
۲/۱۹۶، دلائل النبوۃ ، الجزالثانی، الفصل الخامس والعشرون، ص ۲۸۲، حدیث:۴۰۷) 
	حضرت امام محمد بن یوسف شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِیحضرت علامہ محمد بن سعد کے حوالے سے نقل فرماتے ہیں : بدر کے روز فرشتے اَبلَق گھوڑوں پر اس طرح اُترے تھے کہ انہوں نے سبز ،زرد اور سرخ نورانی عمامے اس طرح باندھ رکھے تھے کہ جن کے شملے ان کے کندھوں کے درمیان لٹک رہے تھے۔ (سبل الھدی والرشاد، جماع ابواب المغازی، الباب السابع فی بیان غزوۃ بدر الکبری، ۴/۴۴) 
	حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (1) عَلَیہ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی  لکھتے ہیں : ’’حضرت سیّدنا جبریل عَلَیہِ السَّلام پانچ سو فرشتوں کے ساتھ اور حضرت سیّدنا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1… فَخرُالمُحَدِّثِین،رَئِیسُ المُحَقِّقِین حضرت شیخ عبدالحق محدثِ دہلویرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہ کی ولادتِ باسعادت یکم محرم الحرام ۹۵۸ھ ؁ بمطابق۹ جنوری ۱۵۵۱ ء کو دہلی (ہند) میں ہوئی۔ آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہ کی تعلیم وتربیت آپ کے والدِ ماجد شیخ سیف الدینرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہ کی آغوش میں ہوئی، بعد ازاں عرب وعجم کے علماء ومحدثین سے اِکتسابِ فیض کیا،رہبرِ کامل شیخ عبدالوہاب متقی قادری رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہ کی بارگاہ میں سلوک وطریقت کے منازل طے کئے۔ آپ کو اپنے والدِ ماجد شیخ سیف الدین قادری، حضرت موسیٰ پاک شہید گیلانی قادری،حضرت خواجہ باقی باللہ نقشبندیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہِم اَجمَعِین جیسے متعدد اولیاء واَصفِیاء سے بھی اردات وخلافت حاصل ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالی عَلَیْہ کی پوری زندگی اِحیائے سنت،رَدِّ بدعت اور علم کی نشرو اشاعت میں گزری۔ ہندوستان میں دورِ اکبری کے تکفیر وتضلیل کے رُوح فرسا حالات میں اپنے مسلک پر ثابت قدم رہے، درس و تدریس، قرآن و حدیث سے فضائے ہند کو مُنَوَّر رکھا، عمر بھر آپ کے ہاتھ میں جامِ شریعت رہا، عشقِ حقیقی سے قلب وجگر کو گرماتے رہے، نادِر مَباحِث، تحقیقات، فوائد اور لطیف نکات پر مشتمل