نظارہ ہے، سُبْحَانَ اللہ عَزَّوَجَلَّ! میں تو اپنے آقاومولیٰ محمدِ مصطفی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کے شہر میں پہنچ چکاہوں۔‘‘
نوجوان نے کہا:’’ اب اُتر جاؤ، اور جب روضۂ رسولعَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَم پر حاضری ہوتو میرا بھی باادب سلام عرض کر دینا اورکہنا:’’ رضوانِ جنَّت آقائے نامدار، مدینے کے تاجدار، بِاذنِ پروردگار دوعالم کے مالک و مختار عَزَّوَجَلَّ و صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم کی بارگاہِ بے کس پناہ میں خوب خوب سلام عرض کرتا ہے۔‘‘ اتنا کہہ کر وہ نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
(عیون الحکایات ، الحکایۃ الستون بعد المأتین الخ، ص ۲۴۷)
فرشتوں کے سیاہ عمامے
حضرت سیّدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم نے فرمایا:جنگِ بدر کے دن فرشتوں کی نشانی سیاہ عمامے تھی۔ (معجم کبیر، عن عطاء عن ابن عباس، ۱۱/۱۵۵، حدیث:۱۱۴۶۹)
سبز عمامہ فرشتوں کا شعار
حضرت سیّدنا عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما سے روایت ہے: ’’ بَدَر کے روز فرشتوں کی نشانی سفید عمامے اور بروزِ حُنین سبز عمامے تھی۔‘‘ (تفسیر خازن، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ:۹، ۲/۱۸۲، تفسیر بغوی ، پ ۹، الانفال، تحت الآیۃ: ۹،
ر