Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
57 - 479
روایت حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم سے بھی نقل فرمائی ہے۔ 
(سیرۃ ابن ہشام، غزوۃ بدر الکبری، شھود الملائکۃ وقعۃ بدر، ۲۶۲) 

رضوانِ جنّت کا زرد عمامہ 
	دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’عُیُونُ الحکایات (مُتَرجَم)‘‘ حصہ دُوُم صفحہ 74 پر ہے: حضرتِ سیِّدُنا علی بن محمد سِیْرَوَانِی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : میں نے حضرتِ سیِّدُنا ابراہیم خوَّاص عَلیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الرَّزَّاق کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ایک مرتبہ ایک وادی میں مجھے بہت زیادہ پیاس لگی ، شدتِ پیاس سے میں نیم بے ہوش ہوکر گرپڑا، اچانک میرے چہرے پر پانی کے قطرے گرے جن کی ٹھنڈک میں نے اپنے دل پر محسوس کی ۔ آنکھیں کھولیں تو خوبصورت سفید گھوڑے پر سوارسبز کپڑے زیبِ تن کئے، زرد عمامے کا تاج سر پر سجائے ایک شکیل وجمیل نوجوان نظر آیا۔ جس کے ہاتھ میں ایک پیالہ تھا۔ ایسا خوبصورت نوجوان میں نے آج تک نہ دیکھا تھا۔ اس نے مجھے پیالے میں سے شربت پلایا اورکہا :’’ میرے پیچھے سوار ہو جاؤ۔‘‘ میں گھوڑے پر اس کے پیچھے سوار ہوگیا۔ ابھی وہ گھوڑا اپنی جگہ سے چلا ہی تھا کہ اس نوجوان نے مجھ سے پوچھا: ’’تم سامنے کیا دیکھ رہے ہو۔‘‘میں نے کہا:’’ میرے سامنے اس وقت مدینۂ مُنَوَّرَہ زَادَہَا اللہُ شَرَفًا وَّتَعْظِیْمًا کا پُرکَیْف