فرمایا کہ اَبلَق (چتکبرے ) گھوڑوں پر سوار پانچ ہزار ایسے فرشتوں کو نازل فرمایا جنہوں نے زرد اور سفید عمامے اس طرح باندھ رکھے تھے کہ ان کے شملے پیٹھ کے پیچھے لٹک رہے تھے۔ ‘‘ (جلالین، پ۴، آل عمرٰن، تحت الآیۃ:۱۲۵، ص۶۰)
اس تفسیر کو اُس حدیثِ پاک کی تائید بھی حاصل ہے کہ جس میں حضور سراپا نُور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے عماموں کو فرشتوں کی نشانی فرمایا ہے چنانچہ حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ نبیٔ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: عَلَیْکُمْ بِالْعَمَائِمِ فَاِنَّہَا سِیمَائُ الْمَلَائِکَۃِ، وَاَرْخُوا لَہَا خَلْفَ ظُہُورِکُمْ یعنی تم پر عمامے باندھنا لازم ہے بیشک یہ ملائکہ کی نشانی ہیں اور عمامے کا شملہ پیٹھ کے پیچھے لٹکاؤ۔
(معجم کبیر، نافع عن ابن عمر ، ۱۲/۲۹۲، حدیث:۱۳۴۱۸)
فرشتوں کے سفید عمامے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! صحابۂ کرام رِضوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیہِم اَجمَعِین نے بھی فرشتوں کی اس نشانی کو بیان فرمایا ہے چنانچہ حضرت سیّدنا عبداللہ ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُمَا فرماتے ہیں کہ جنگِ بدر کے دن فرشتوں کی نشانیاں سفید عمامے تھے جن کے شملے ان کی پشتوں پر لٹک رہے تھے۔
(معجم کبیر، مقسم عن ابن عباس ، ۱۱/۳۰۸، حدیث:۱۲۰۸۵ مختصراً)