Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
54 - 479
مدد کے لئے مختلف مواقع پر جن فرشتوں کو نازل فرمایا تھا قرآن مجید میں ان کی جو علامت بطور خاص ذکر کی گئی ہے وہ ان کا عماموں والا ہونا ہے۔ چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ارشاد فرماتا ہے : 
وَلَقَدْ نَصَرَکُمُ اللہُ بِبَدْرٍ وَّاَنۡتُمْ اَذِلَّۃٌۚ فَاتَّقُوا اللہَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوۡنَ﴿۱۲۳﴾ اِذْ تَقُوۡلُ لِلْمُؤْمِنِیۡنَ اَلَنۡ یَّکْفِیَکُمْ اَنۡ یُّمِدَّکُمْ رَبُّکُمۡ بِثَلٰثَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُنۡزَلِیۡنَ﴿۱۲۴﴾ؕبَلٰۤیۙ اِنۡ تَصْبِرُوۡا وَتَتَّقُوۡا وَیَاۡتُوۡکُمۡ مِّنۡ فَوْرِہِمْ ہٰذَا یُمْدِدْکُمْ رَبُّکُمۡ بِخَمْسَۃِ اٰلٰفٍ مِّنَ الْمَلٰٓئِکَۃِ مُسَوِّمِیۡنَ﴿۱۲۵﴾
ترجمۂ کنزالایمان:اور بے شک اللہ نے بدر میں تمہاری مدد کی، جب تم بالکل بے سرو سامان تھے۔ تو اللہ سے ڈرو کہ کہیں تم شکر گزار ہو۔ جب اے محبوب تم مسلمانوں سے فرماتے تھے: کیا تمہیں یہ کافی نہیں کہ تمہارا رب تمہاری مدد کرے تین ہزار فرشتے اتار کر؟ ہاں کیوں نہیں اگر تم صبر و تقویٰ کرو اور کافر اسی دم (اسی وقت) تم پر آپڑیں (حملہ کر دیں ) تو تمہارا رب تمہاری مدد کو پانچ ہزار فرشتے نشان والے بھیجے گا۔ ( پ ۴، آل عمرٰن: ۱۲۳تا۱۲۵)
مُفَسِّرینِ عظام کی رائے 
	حضرت علامہ جلال الدین سیوطی شافعی عَلَیہ رَحْمَۃ اللہِ الْقَوِی مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں :’’صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان نے میدانِ بدر میں صبر کا دامن مضبوطی سے تھامے رکھاتو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے وعدے کو اس طرح پورا