لئے طالوت کی بادشاہی کی نشانی قرار دیا گیا تھا بنی اسرائیل یہ دیکھ کر اس کی بادشاہی کے مُقِر (اقرار کرنے والے) ہوئے اور بے دَرَنگ (فوراً) جہاد کے لئے آمادہ ہوگئے کیونکہ تابوت پا کر انہیں اپنی فتح کا یقین ہوگیا۔ طالوت نے بنی اسرائیل میں سے ستر ہزار جوان منتخب کئے جن میں حضرت (سیّدنا) داؤد عَلَیہِ السَّلام بھی تھے ۔ (جلالین و جمل و خازن و مدارک وغیرہ) فائدہ: اس سے معلوم ہوا کہ بزرگوں کے تبرکات کا اِعزَاز و احترام لازم ہے ان کی برکت سے دعائیں قبول ہوتی اور حاجتیں روا ہوتی ہیں اور تبرکات کی بے حرمتی گمراہوں کا طریقہ اور بربادی کا سبب ہے۔ فائدہ: تابوت میں انبیاء کی جو تصویریں تھیں وہ کسی آدمی کی بنائی ہوئی نہ تھیں اللہ کی طرف سے آئی تھیں۔
(خزائن العرفان، پ ۲، البقرۃ، تحت الآیۃ:۲۴۸، ص ۸۴)
اسی آیت کے تحت مفسرِ قراٰن حضرت علامہ ابوعبداللہ محمد بن یوسف المعروف ابنِ حَیّان اُندلُسِی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی نقل فرماتے ہیں : ’’اس تابوت میں حضرت سیّدنا موسیٰ عَلَیہِ السَّلامکا عمامہ شریف بھی تھا۔‘‘ (تفسیر بحر المحیط، پ ۲، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۲۴۸، ۲/۲۷۱)
غزوۂ بدر میں اترنے والے باعمامہ فرشتے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اللہ عَزَّ وَ جَلَّ نے صحابۂ کرام عَلَیہِمُ الرِّضوَان کی