توریت بھی رکھتے تھے اور اپنا مخصوص سامان بھی چنانچہ اس تابوت میں اَلواحِ توریت (یعنی توریت شریف کی تختیوں ) کے ٹکڑے بھی تھے اور حضرت موسٰی عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کا عصا اور آپ کے کپڑے اور آپ کی نعلین شریفین اور حضرت ہارون عَلَیہِ السَّلام کاعمامہ اور ان کا عصا اور تھوڑا سا’’ مَنّ ‘‘جو بنی اسرائیل پر نازل ہوتا تھا، حضرت موسیٰ عَلَیہِ السَّلام جنگ کے موقعوں پر اس صندوق کو آگے رکھتے تھے اس سے بنی اسرائیل کے دلوں کو تسکین رہتی تھی۔ آپ کے بعد یہ تابوت بنی اسرائیل میں مُتَوارِث (بطورِ وِرَاثت منتقل)ہوتا چلا آیا۔ جب انہیں کوئی مشکل درپیش ہوتی وہ اس تابوت کو سامنے رکھ کر دعا ئیں کرتے اور کامیاب ہوتے دشمنوں کے مقابلہ میں اس کی برکت سے فتح پاتے، جب بنی اسرائیل کی حالت خراب ہوئی اور ان کی بدعملی بہت بڑھ گئی اور اللہ تعالیٰ نے ان پر عَمَالَقَہ (قوم) کو مُسَلَّط کیا تو وہ ان سے تابوت چھین کر لے گئے اور اس کو نجس اور گندے مقامات میں رکھا اور اس کی بے حُرمتی کی اور ان گستاخیوں کی وجہ سے وہ طرح طرح کے اَمراض و مَصائِب میں مبتلا ہوئے ۔ ان کی پانچ بستیاں ہلاک ہوئیں اور انہیں یقین ہوا کہ تابوت کی اِہانَت (بے حُرمتی) ان کی بربادی کا باعث ہے تو انہوں نے تابوت ایک بیل گاڑی پر رکھ کر بیلوں کو چھوڑ دیا اور فرشتے اس کو بنی اسرائیل کے سامنے طالوت کے پاس لائے اور اس تابوت کا آنا بنی اسرائیل کے