وَبَقِیَّۃٌ مِّمَّا تَرَکَ اٰلُ مُوۡسٰی وَاٰلُ ہٰرُوۡنَ تَحْمِلُہُ الْمَلٰٓئِکَۃُ ؕ اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیَۃً لَّکُمْ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ﴿۲۴۸﴾٪
تمہارے رب کی طرف سے دلوں کا چین (سکون) ہے اور کچھ بچی ہوئی چیزیں ہیں ، معزز موسیٰ اور معزز ہارون کے ترکہ کی اٹھاتے لائیں گے اسے فرشتے۔ بیشک اس میں بڑی نشانی ہے تمہارے لئے، اگر ایمان رکھتے ہو ۔( پ ۲،البقرۃ: ۲۴۸)
تابوتِ سکینہ کیا تھا؟
حضرت صَدرُالافاضِل سید محمد نعیم الدین مرادآبادی عَلَیہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی اس آیتِ مبارکہ کے تحت فرماتے ہیں : ’’یہ تابوت شَمشَاد کی لکڑی کا ایک زر اَندود (یعنی سونے کا کام کیا ہوا) صندوق تھا۔ جس کا طول تین ہاتھ کا اور عرض دو ہاتھ کا تھا۔ اس کواللہ تعالیٰ نے حضرت آدم عَلَیہِ السَّلام پر نازل فرمایا تھا۔ اس میں تمام انبیاء عَلَیہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تصویریں تھیں۔ ان کے مساکن و مکانات کی تصویریں تھیں اور آخر میں حضور سیدِ انبیاء صَلَّی اللہُ عَلَیہ وَسَلَّم کی اور حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) کی دولت سرائے اَقدَس کی تصویر ایک یاقوت ِسرخ میں تھی کہ حضور (صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) بحالت نماز قیام میں ہیں اور گرد آپ کے آپ کے اصحاب، حضرت آدم عَلَیہِ السَّلام نے ان تمام تصویروں کو دیکھا، یہ صندوق وراثتاً منتقل ہوتا ہوا حضرت موسیٰ عَلَیہِ السَّلام تک پہنچاآپ اس میں