Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
50 - 479
تھے۔ آپرَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہ کوجب بھی کوئی سُنّت معلوم ہو جاتی تو اُس کی بَجَاآوری میں کسی قسم کی پَس و پَیش کا مُظاہَرہ نہ فرماتے۔ چُنانچِہ ایک بار کسی مقام پر آپرَضِیَ اللہُ تَعَالی عَنْہ اونٹنی کے ساتھ پَھیرے لگارہے تھے یہ دیکھ کر لوگوں کوتعجُّب ہوا۔ پوچھنے پر ارشادفرمایا: ایک بار میں نے مدینے کے تاجدار صَلَّی اللہُ تَعَالی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کویہاں اسی طرح کرتے دیکھا تھا ، لہٰذاآج میں اِس مقام پراُسی ادائے مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہٖ وَسَلَّمکوادا کر رہا ہوں۔ (شرح الشفاء ، القسم الثانی، الباب الاول، فصل واما ورد عن السلف والائمۃ من اتباع سنتہ، ۲/۳۰) 
بتاتا ہوں تم کو میں کیا کر رہا ہوں 			میں پھیرے جو ناقے کو لگوا رہا ہوں 
مجھے شادمانی اسی بات کی ہے				میں سنّت کا ان کی مزا پا رہا ہوں 
عمامہ شریف قرآن کے آئینے میں 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف انبیاء و صا لحین اور فرشتوں کی ایسی قدیم سنّت ہے کہ اس کا ذکر انبیائے کرام عَلَیہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تبرکات کے ضمن میں قرآنِ مجید میں بھی موجود ہے چنانچہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  ارشاد فرماتاہے:
وَقَالَ لَہُمْ نَبِیُّہُمْ اِنَّ اٰیَۃَ مُلْکِہٖۤ اَنۡ یَّاۡتِیَکُمُ التَّابُوۡتُ فِیۡہِ سَکِیۡنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ
ترجمۂ کنزالایمان: اور اِن (بنی اسرائیل ) سے ان کے نبی نے فرمایا: اس (طالوت) کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ آئے تمہارے پاس تابوت ، جس میں