دوسرے دن اتار دیں اس طرح یہ خشک ہو جایا کرے گی پھر دوبارہ پہن لیا کریں ، یا پھر جالی والی نرم ٹوپی پر ہی عمامہ شریف باندھ لیا کریں۔ شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ فرماتے ہیں : سر سے چمٹی ہوئی ٹوپی پہننا سنّت ہے، اگرچہ کڑک ٹوپی پہننا بھی جائز ہے۔ لہٰذا ہمیں حتی الامکان سر سے ملی ہوئی نرم ٹوپی پر ہی عمامہ شریف باندھنا چاہئے۔ ا س میں ایک فائدہ یہ بھی کہ نرم ٹوپی پر گنبد نما عمامہ باندھنے میں آسانی ہوتی ہے کیونکہ اس میں کچھ نہ کچھ سر کی گولائی محسوس ہو جاتی ہے جبکہ سخت ٹوپی کے ہموار ہونے کی وجہ سے اس میں گنبد نما عمامہ باندھنا مشکل ہے ۔‘‘
امیرِاہلسنّت اور احیاء سنّتِ عمامہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! نبیٔ کریم، رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکے دارِ آخرت اختیار فرمانے کے بعد سے عادتِ جاریہ ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ لوگوں کی ہدایت و اصلاح کے لئے اپنے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے غلاموں میں اولیاء کرام اور علماء عظام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلام کو پیدا فرماتا ہے تاکہ وہ دینِ متین کی خدمت سرانجام دیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان مبارک ہستیوں کو غیرمعمولی علوم اور صلاحیتوں سے نوازتا اور انہیں اعلیٰ اخلاق وکردار کا پیکر بناتا ہے تاکہ لوگ ان کے قریب آئیں ، ان کے ملفوظات وبیانات سنیں ، بدعملی سے