Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
473 - 479
کنارہ کشی اختیار کریں اور اپنی زندگی کو میٹھے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی سنّتوں سے روشن و منوّر کریں۔ ایسی ہی نمونۂ اسلاف شخصیات میں سے پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ بھی ہیں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جہاں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو عشقِ رسول کی انمول نعمت سے نوازا ہے وہیں اِحیائِ سنّت کے عظیم جذبے سے بھی مالامال فرمایا ہے۔ فرائض و واجبات سے بے اعتنائی کے اس پُرفتن دور میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے لاکھوں نوجوانوں کو نہایت احسن انداز میں نہ صرف آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی سنّتوں کا گرویدہ بلکہ مستحبات کا بھی عامل بنا دیا ہے۔ احیائِ سنّت کے سلسلے میں آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی خدمات اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ رہتی دنیا تک یاد رکھی جائیں گی۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے کردار وگفتار میں ایسی تاثیر عطا فرمائی ہے کہ لاکھوں لاکھ مسلمان آپ کے پُرسوز بیانات اور مدنی مذاکرات سن کر سنّتوں کے عاشق بن گئے، جو کل تک داڑھی شریف جیسی عظیم سنّت سے اپنے آپ کو محروم کر کے عملاً شیطان کو خوش کرتے تھے آج ان کے چہرے داڑھی شریف کے نور سے جگمگا رہے ہیں ، کل تک جو فیشن کے طور پر ننگے سر رہنے اور مختلف انداز سے انگریزی