نرم ٹوپی کے فوائد
شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت ، بانیٔ دعوت ِاسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطّار قادری رضوی ضیائی دَامَت بَرَکاتُہُمُ العَالِیَہ کے ٹوپی سے متعلق کچھ ملفوظات کا خلاصہ ہے چنانچہ ارشاد فرماتے ہیں : ’’ہمارے یہاں عموماً عمامہ شریف کے لئے سخت ٹوپی استعمال کی جاتی ہے جس پر ایک مرتبہ عمامہ شریف باندھنے کے بعد کئی کئی دن تک کھولا نہیں جاتا، جس کی وجہ سے اس میں پسینہ ، میل کچیل اور گردو غبار وغیرہ جمع ہوتا رہتاہے جو کہ بسا اوقات تَعفُّن (بدبو) کا باعث بنتا ہے ۔ اگرچہ سربند کی بھی سب کی عادت نہیں ہوتی اور نہ ہی یہ (سربند) ہر وقت سنّت ہے بلکہ جب تیل ڈالیں اس وقت سنّت ہے۔یہی حال سر بند کا ہوتا ہے جبکہ تیل پی پی کر بدبو دار ہو جاتا ہے ، ایسے لوگوں کے قریب بعض اوقات نماز پڑھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ (امیرِ اہلسنّت مزید فرماتے ہیں ) ایک اسلامی بھائی نے مجھے بتایا کہ میں سخت ٹوپی پر عمامہ شریف باندھا کرتا تھا ایک دن اچانک گردن کے پاس سر کی جانب مجھے گلٹی سی نکل گئی۔ ڈاکٹر سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ آپ جو سخت ٹوپی پر عمامہ باندھتے ہیں یہ اسی کی وجہ سے ہے کیونکہ یہ پسینہ وغیرہ جذب کرتی رہتی ہے نیز اس سے سر کو صحیح طور پر ہوا بھی نہیں لگ پاتی اسی پسینے کی وجہ سے آپ کو الرجی ہو گئی ہے ۔ آپ یہ ٹوپی اتار دیا کریں ، ایک دن پہنیں