اس پر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے آپ سے سبب پوچھا اور آپ نے مذکورہ بالا ساری بات بیان کی لیکن آپ کے بیان پر کسی نے بھی انکار نہ کیا معلوم ہوا کہ تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کا یہ مبارک عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے گیسؤوں سے تبرک اور مدد حاصل کرنا جائز ہے۔
اعلیٰ حضرت ،عظیم البرکت سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے مبارک گیسؤوں سے یوں اِستِعانت طلب کرتے ہیں :
ہم سیہ کاروں پہ یارب تپشِ محشر میں سایہ افگن ہوں ترے پیارے کے پیارے گیسو
سوکھے دھانوں پہ ہمارے بھی کرم ہوجائے چھائے رحمت کی گھٹا بن کے تمہارے گیسو
{5}سیّدنا سالم کی سفید ٹوپی و عمامہ
حضرت سیّدنا خالد بن ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :رَاَیْتُ عَلٰی سَالِمٍ قَلَنْسُوَۃً بَیْضَاءَ وَرَاَیْتُ عَلَیْہِ عِمَامَۃً بَیْضَائَ یَسْدُلُ خَلْفَہ مِنْہَا اَکْثَرُ مِنْ شِبْرٍ یعنی: میں نے حضرت سیّدنا سالم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو سفید ٹوپی پہنے ہوئے دیکھا اور میں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو سفید عمامہ سجائے ہوئے (بھی) دیکھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے عمامہ شریف کا ایک بالشت سے کچھ زائد شملہ پیچھے لٹکا رکھا تھا۔ (طبقات ابن سعد،الطبقۃ الثانیۃ من اہل المدینۃ من التابعین الخ ، سالم بن عبد اللہ بن عمر، ۵/۱۵۱)