Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
469 - 479
 انہیں منع نہ فرمایا بلکہ ان کے عقیدے کو پختہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: اے خالد جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے تم ہمیشہ فتح یاب ہوتے رہو گے۔ 
خرسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کا سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو منع نہ فرمانا بلکہ ان کی تائید فرمانا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے تبرکات وآثار سے تبرک اور مدد حاصل کرنا نہ صرف صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے نزدیک جائز ہے بلکہ خود رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے نزدیک بھی جائز ہے اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے کئی صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو اپنے موئے مبارکہ خود عطا فرمائے۔ چنانچہ
خحضرت سیدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے حجام کو بلا کر اپنے سرِاقدس کے داہنی جانب کے بال منڈوائے اور سیدنا طلحہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو وہ بال عطا فرما دیے، پھر بائیں جانب کے بالوں کو منڈوایا اور وہ سب بال بھی سیدنا ابوطلحہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو عطافرمائے نیز انہیں یہ حکم فرمایا کہ ان بالوں کو لوگوں میں تقسیم فرمادیں۔ (مسلم، کتاب الحج، باب بیان ان السنۃ۔۔۔الخ، ص۶۷۸، حدیث:۳۲۵)
خحضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب بطریق نسطور کے ساتھ لڑائی کر رہے تھے تو آپ کی مبارک ٹوپی گرگئی اور آپ اس کی تلاش میں لگ گئے،