اسے سننِ زوائد کہتے ہیں۔ پس سنّت ِہُدیٰ (یعنی سنّتِ مؤکدہ ) وہ ہے کہ جس پر تکمیلِ دین کے لئے عمل کیا جاتا ہو (جیسے اذان واقامت وغیرہ) اس کا ترک مکروہ یا اِسَاء َت (یعنی بُرا) ہوتا ہے۔ جبکہ سُننِ زَوَائِد (یعنی سنّتِ غیر مؤکدہ ) وہ ہیں کہ جن پر عمل کرنا محمود اور اچھا ہوتا ہے ان کے ترک میں کراہت اور اِسَاء َت (یعنی برائی) نہیں ہوتی جیسا کہ کھڑے ہونے ، بیٹھنے ، کھانے پینے اور لباس میں نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے طریقے کو اپنانا۔ (التعریفات، ص ۸۸)
حضرت سیّدنا شاہ مُلَّا جِیوَن احمد ہِندی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اس بات کو مزید تفصیل سے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :
سنّتِ مؤکدہ کا شرعی حکم
سنّت کی پہلی قسم سنتِ ہُدیٰ (یعنی سنّتِ مؤکدہ )ہے اس کو ترک کرنے والا اِسَاء َت یعنی برائی کی جزا کا مستحق ہوتا ہے جیسا کہ مَلامَت اور عقاب یا اِسَاء ت کی جزا کو بھی اِسَاء َت کہہ دیا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان مبارک میں ہے: (جَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْلُہَا ترجمۂ کنزالایمان: برائی کا بدلہ اسی کی برابر برائی ہے) (پ۲۵، الشوری: ۴۰) جیساکہ جماعت، اذان، اقامت وغیرہ ، پس یہ سب شعائر ِدین اور دین کی علامات میں سے ہیں اسی وجہ سے علماء کرام فرماتے ہیں کہ اگر تمام شہر والے اس کے چھوڑنے پر مُصِر (یعنی بضد) ہو جائیں تو امام کی جانب سے ان سے اسلحہ کے