وَجِیز کُردَرِی پھر نَہرُالفَائِق پھر رَدُّالمُحتَار (1)میں ہے: لَولَم یَرَالسُنّۃَ حَقًّا کَفَر لِاَنَّہ اِستِخفَافٌ اگر کوئی شخص سنّت کو حق و سچ نہیں جانتا تو اس نے کفر کیا کیونکہ یہ اس کا اِستِخفَاف (یعنی ہلکا جاننا) ہے۔ (درمختار و ردالمحتار ، کتاب الصلاۃ ، باب صفۃ الصلاۃ ، مطلب سنن الصلاۃ، ۲/۲۰۷،فتاوی رضویہ ، ۶/۲۰۸ ملخصاً)
سنّت کی اقسام
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف کے شرعی حکم کی مزید وضاحت سے پہلے چند بنیادی چیزوں کا جاننا ضروری ہے۔ یاد رہے سنّت کا لغوی معنی طریقہ اور راستہ ہے اورشرعی اصطلاح میں سنّتِ مبارکہ کی دو قسمیں ہیں۔ (1) سنّتِ مؤکدہ (اسے سنّتِ ہُدیٰ بھی کہتے ہیں ) (2) سنّتِ غیر مؤکدہ (اسے سنّتِ زوائد بھی کہتے ہیں ) چنانچہ
حضرت علامہ سیّد شریف جُرجانی حنفی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : شرعی طور پر سنّت اس دینی طریقے کو کہتے ہیں کہ جو فرض اور واجب نہ ہو اور نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم نے اس پر مَوَاظَبَت (ہمیشگی) فرمائی ہو لیکن کبھی کبھار ترک بھی فرمادیا ہو۔ اگر وہ مَوَاظَبَت (ہمیشگی) عبادت کی غرض سے ہو تو اسے سننِ ہُدیٰ یعنی سنّتِ مؤکدہ کہتے ہیں اور اگر مَوَاظَبَت (ہمیشگی) عادت کے طور پر ہو تو
1…یہ فقہ کی کتابوں کے نام ہیں۔