Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
48 - 479
ساتھ قتال کیا جائے گا (یعنی جنگ کی جائے گی) اور ان میں سے ہر ایک کے بارے میں اتنی روایات وارد ہوئی ہیں جن کا شمار نہیں کیا جاسکتا۔ 
سنّتِ غیر مؤکدہ کا شرعی حکم
	سنّت کی دوسری قسم سننِ زوائد (یعنی سنّتِ غیر مؤکدہ ) ہے اس کو ترک کرنے والا اِسَاء َت (یعنی سزا) کا مستحق نہیں ہوتا جیسا کہ لباس، اٹھنے بیٹھنے میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کی سیرتِ مبارکہ کی پیروی کرنا کیونکہ یہ چیزیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم سے بطورِ عبادت یا قُربَت نہیں بلکہ بطورِ عادت مبارک صادِر ہوئیں۔ پس آپ عَلَیہِ السَّلام سرخ ، سبز اور سفید لمبی آستین والا جُبّہ مبارکہ زیب تن فرمایا کرتے تھے ۔ سیاہ اور سرخ عمامہ جس کی لمبائی کبھی سات ہاتھ کبھی بارہ ہاتھ اورکبھی اس سے کم یا زیادہ بھی ہوتی ۔ آپ عَلَیہِ السَّلام اکثر اوقات تَشَھُّد کی حالت پر تشریف فرما ہوتے ، جب کہ عُذر کی بنا پر چار زانوں ہو کر اور کبھی کبھی اِحْتِبَاء کی حالت میں (یعنی گھٹنے کھڑے کر کے کپڑے کے ذریعے پیٹھ اور گھٹنوں کو باندھ کر) تشریف فرما ہوتے تھے۔ یہ سب سُننِ زَوَائِد (یعنی سنّت ِغیر مؤکدہ ) ہیں ان کو اپنانے والا ثواب کا حقدار ہوتا ہے اور ترک کرنے والے پر گرفت نہیں ، یہ سنّت ، مستحب کی طرح ہے لیکن ان دونوں میں فرق یہ ہے کہ مستحب وہ ہے جس کو علماء کرام پسند فرمائیں جب کہ سننِ زوائد رسول اللہ صَلَّی اللہُ