Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
468 - 479
 اور مدد حاصل کروں گا تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تائید فرمائی کہ جب تک تمہارے پاس یہ بال رہیں گے تمہیں ہمیشہ مدد ونصرت ہی ملے گی، تمہارے دشمنوں کو شکست وذلت دی جائے گی۔ 
خسرکارِ والا تبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے مبارک گیسؤوں سے برکت اور مدد حاصل کرنے کا معاملہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی نہ صرف حیاتِ مبارکہ میں تھا بلکہ آپ کی وفات طیبہ کے بعد بھی ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمنے یہ ارشاد فرمایا کہ اے خالد جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے تب تک تمہاری مدد کی جاتی رہے گی۔ اور حضرت  سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ جب یہ واقعہ بیان کررہے ہیں اس وقت رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کا وصال ظاہری ہوچکا تھا۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ آثارِ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم سے تبرک ومدد کا معاملہ حیاتِ طیبہ میں بھی تھا اور وصال ظاہری کے بعد بھی ہے۔ 
خاگر حضور نبی کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے مبارک گیسؤوں سے تبرک حاصل کرنا اور مدد طلب کرنا ناجائز یا شرک ہوتا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو روکتے اور منع فرماتے کہ اے خالد یہ عقیدہ رکھنا درست نہیں ہے، جبکہ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے