فَجَعَلْتُہَا فِیْ مُقَدَّمَۃِ قَلَنْسُوَتِیْ فَلَمْ اَلْقِ جَمْعًا قَطُّ اِلَّا اِنْہَزَمُوْا بِبَرَکَۃِ رَسُوْلِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم یعنی پھر میں نے ان مبارک گیسؤوں کو اپنی ٹوپی کے اگلے حصے میں محفوظ کرلیا اور میں جب بھی اپنے دشمنوں سے مقابلے کے لیے جاتاہوں تو اللہ عَزَّوَجَلَّ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی برکت سے میرے دشمنوں کو شکست وذلت سے دوچار فرماتا ہے۔
(فتوح الشام، الشعار، ۱/۲۱۰)
علم وحکمت کے مدنی پھول:
خمیٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیّدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کتنے واضح الفاظ میں اپنا مبارک عقیدہ بیان کررہے ہیں کہ میں ان مبارک گیسؤوں سے تبرک اور مدد حاصل کروں گا۔ معلوم ہوا حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا یہ عقیدہ تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے مبارک گیسؤوں سے تبرک اور مدد حاصل کرنا دونوں جائز ہیں۔
خمعلو م ہوا کہ یہ فقط حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا عقیدہ ہی نہیں تھا بلکہ آپ کا یہ مشاہدہ بھی تھا کہ مجھے جنگوں میں ان ہی مبارک گیسؤوں کی برکت سے فتح ونصرت حاصل ہوتی ہے۔
خجب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کیا کہ میں ان سے برکت