کھڑے ہوئے۔ (فتوح الشام، الشعار، ۱/۲۱۰)
سیدنا خالد بن ولید کا مبارک عقیدہ:
جب حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ لشکر میں واپس آئے تو اُن سے پوچھا گیا کہ حضرت جب میدان جنگ میں ہرطرف تلواریں چل رہی تھیں ، اس وقت آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی ٹوپی کی فکر لگی ہوئی تھی، اس کی کیا وجہ تھی؟ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ارشاد فرمایا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حضور نبی کریم، رَ ء ُوفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمنے حلق کروایا تو میں نے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمکے مبارک بالوں میں سے چند بال مبارک اپنے پاس رکھ لیے۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے مجھ سے ارشاد فرمایا: مَا تَصْنَعُ بِہٰوُلَائِ یَا خَالِدُ یعنی اے خالد! تم ان بالوں کا کیا کرو گے؟میں نے عرض کی: اَتَبَرَّکُ بِہَا یَا رَسُوْلَ اللہِ وَاسْتَعِیْنُ بِہَا عَلَی الْقِتَالِ قِتَالَ اَعْدَائِیْ یعنی یَارَسُوْلَ اللہ! میں آپ کے ان مبارک گیسؤوں سے تبرک حاصل کروں گا اور جنگوں میں اپنے دشمنوں کے قتال پر ان سے مدد طلب کروں گا۔ یہ سن کر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: لَا تَزَالُ مَنْصُوْراً مَا دَامَتْ مَعَکَ یعنی اے خالد! جب تک یہ بال تمہارے پاس رہیں گے ان کے وسیلے سے ہمیشہ تمہاری مدد کی جاتی رہے گی۔سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :