رَاَیْتُ عَلٰی اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَلَنْسُوَۃً بَیْضَاءَ یعنی میں نے حضرت سیّدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ کو سفید ٹوپی پہنے ہوئے دیکھا۔
(طبقات ابن سعد، تسمیۃ من نزل البصرۃ من اصحاب رسول اللہ الخ،۷/۱۸)
{4}سیّدنا خالد بن ولید کی مبارک ٹوپی
جنگِ یَرمُوک کے بارہویں دن حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا مقابلہ ایک رومی سردار بطریق نسطور سے ہوا، دونوں کے درمیان جنگ جاری تھی کہ اچانک سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا گھوڑا بدکا اور زمین پر گرگیا جس سے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی زمین پر گرگئے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی وہ مبارک ٹوپی بھی گرگئی جسے آپ ہروقت اپنے ساتھ رکھا کرتے تھے، حیرانی کی بات یہ ہے کہ جیسے ہی وہ ٹوپی گری آپ کو اپنی جان کی نہیں بلکہ اس ٹوپی کی فکر لگ گئی اور آپ نے بآواز بلند پکارا: قَلَنْسُوَتِیْ رَحِمَکُمُ اللہ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ تم لوگوں پر رحم فرمائے ،ہے کوئی جو میری ٹوپی مجھے تھما دے۔ چنانچہ آپ کی قوم میں سے ایک شخص گیا اور آپ کی ٹوپی تلاش کرکے آپ کو تھما دی، جیسے ہی آپ نے وہ ٹوپی پہنی تو ایسے لگا جیسے آپ کو نئی طاقت مل گئی ہو، پھر آپ نے اس سردار پر اپنی تلوار کا ایسا وار کیا کہ اس کے جسم کے دو ٹکڑے ہوگئے۔رومیوں نے جب اس کا یہ حشر دیکھا تو سب کا سانس رُک گیا اور وہ میدانِ جنگ چھوڑ کر بھاگ