Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
464 - 479
 اور اللہ تعالٰی سے کیے ہوئے وعدے کو سچ کر دکھائے یہاں تک کہ وہ شہید ہو جائے ، یہ وہ شخص ہے کہ قیامت کے دن لوگ اس کی طرف نظریں اٹھا کر اس طرح دیکھیں گے وَ رَفَعَ رَاْسَہٗ حَتّٰی وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُہٗ  یعنی اور اس کے ساتھ ہی اپنا سر اٹھایا حتی کہ آپ کی ٹوپی گر گئی، راوی کہتے ہیں میں نہیں جانتا کہ اس سے حضرت سیّدنا  عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کی ٹوپی مراد ہے یانبیٔ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ واٰلہٖ وَسَلَّم کی ٹوپی ۔ (ترمذی ، کتاب فضائل الجہاد، باب ماجاء فی فضل الشھداء عنداللہ، ۳/۲۴۱، حدیث:۱۶۵۰) 
 	اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ حضرت سیّدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی ٹوپی پہنتے تھے کیونکہ اگرآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ٹوپی نہ پہنتے ہوتے تو راوی کو قطعی طور شبہ نہ ہوتا، راوی کا شبہ میں پڑ جانا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حضرت سیّدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بھی ٹوپی پہنا کرتے تھے۔ 
	{2}حضرت سیّدنا یزید بن حارث فَزَارِی عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْبَارِی فرماتے ہیں : رَاَیْتُ عَلَی عَلِیٍّ قَلَنْسُوَۃً بَیْضَائَ مِصْرِیَّۃً یعنی میں نے حضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجہَہُ الکَرِیم کو سفید مصری ٹوپی پہنے دیکھا۔ (طبقات ابن سعد، طبقات البدریین من المہاجرین الخ، ذکرقلنسوۃعلی بن ابی طالب الخ ، ۳/۲۲)  
	{3}حضرت سیّدنا  عَبَّاد بن ابو سلیمان  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں :