Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
463 - 479
 ’’کان‘‘ وھی الشمائل الشریفۃ، ۵/۳۱۴،تحت الحدیث:۷۱۶۸ ملخصًا) 
مصطفٰی کی سادگی پہ لاکھوں سلام 
	 حضرت علامہ ابوعبداللہ محمد بن محمد بن محمد مالکی المعروف ابنُ الحاج  عَلَیہ رَحمَۃُ  اللہِ الوَہَّاب  فرماتے ہیں : نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم لباس کے بارے میں تکلف نہ فرماتے بلکہ جو آسانی سے میسر ہوتا اسے ہی شرف عطا فرماتے ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم کبھی عمامہ و ٹوپی اور چادر مبارک سجائے کاشانۂ اقدس سے تشریف لاتے ، کبھی عمامہ و ٹوپی میں ، کبھی صرف ٹوپی مبارک میں تو کبھی کبھار یونہی بغیر عمامہ و ٹوپی کے تشریف لے آتے۔ (المدخل ، فصل فی اللباس، ۱/۱۱۲) 
صحابۂ کرام، تابعین عظام کی مبارک ٹوپیاں 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!  صحابۂ کرام و تابعینِ عُظَّام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیھِم اَجمَعِین بھی کئی رنگ اور مختلف بناوٹ کی ٹوپیاں زیبِ سر فرمایا کرتے تھے چنانچہ پہلے صحابۂ کرام اور پھر تابعینِ عظام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیھِم اَجمَعِین کی مبارک ٹوپیوں کا بالترتیب ذکر کیا جاتا ہے چنانچہ 
	{1}امیرالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہ وَ اٰلہ وَ سَلَّم کو فرماتے سنا : اَلشُّہَدَاءُ  اَرْبَعَۃٌ یعنی شہید چار قسم کے ہیں۔ ایک وہ کامل مؤمن جو دشمن سے لڑے