Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
462 - 479
سرکار کی ٹوپی کے متعلق اہم وضاحت
	حضرت علّامہ عبد الرء وف مناوی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی اس حدیث کے تحت نقل فرماتے ہیں : ظاہر ہے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم بغیر عمامہ کے ٹوپی گھر میں ہی پہنتے ہوں گے اور جب لوگوں کے پاس تشریف لاتے تو عمامہ شریف میں آتے ہوں گے۔ اور حدیث کے اس حصے’’ فَجَعَلَھَا سُتْرَۃً بَیْنَ یَدَیْہِ وَھُوَ یُصَلِّی‘‘(یعنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہ وَ سَلَّم بعض اوقات اپنی ٹوپی اتار کر اسے سترہ بنا کر نماز پڑھتے تھے) کے تحت لکھتے ہیں : ظاہر یہ ہے کہ ایسا آپ اس وقت فرماتے جب سترہ کے لئے کوئی اور چیز میسر نہ ہوتی ،یا بیانِ جواز کے لئے ایسا فرماتے تھے ۔ بعض شوافع کہتے ہیں کہ اس حدیث سے اور ماقبل حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ سر سے چمٹی ہوئی، اٹھی ہوئی، دھاری دار ٹوپی خواہ عمامہ کے نیچے پہنیں یا بغیر عمامہ کے پہنیں سب احادیث میں وارد ہے۔ ابن عربی فرماتے ہیں کہ ٹوپی انبیاء کرام عَلَیْہِمُ السَّلام اور صالحین رَحِمَہُمُ اللہُ المُبِیْن کے لباس کا حصہ ہے۔ یہ سر کی حفاظت کرتی اور عمامہ کوسر پر روکتی ہے اور ٹوپی پہننا سنّت ہے اور اس کا حکم یہ ہے کہ سر سے متصل ہو، اُٹھی ہوئی نہ ہو،مگر گرمی یا حبس وغیرہ سے بچاؤ کے لئے اُٹھی ہوئی ٹوپی پہننا یا اس میں سوراخ کرنا جائز ہے۔ (فیض القدیر، حرف الکاف ، باب