نے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو اس حال میں دیکھا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے پاس لمبی ٹوپی، کانوں والی ٹوپی اور سر سے چمٹی ہوئی ٹوپی تھی۔
(اخلاق النبی و آدابہ، ذکر قلنسوتہ صَلَّی اللہ علیہ وسلَّم، ص۷۰، حدیث:۳۰۶)
حضرت سیّدنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم سفید ٹوپی پہنتے تھے۔ (شعب الایمان ، باب فی الملابس الخ، فصل فی العمائم، ۵/۱۷۵، حدیث:۶۲۵۹، مجمع الزوائد، کتاب اللباس، باب فی القلنسوۃ ، ۵/۲۱۱، حدیث:۸۵۰۵)
حضرت سیّدنا ابن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہُما سے مروی ہے: کَانَ یَلْبَسُ القَلَانِسَ تَحتَ العَمَائِمِ وَبِغَیْرِ الْعَمَائِمِ وَ یَلْبَسُ العَمَائِم بِغَیرِالقَلَانِسَ وَ کَانَ یَلْبَسُ القَلَانِسَ الیَمَانِیَۃ وَھُنَّ الْبِیْضُ الْمُضَرَّبَۃ وَیَلْبَسَ ذَوَاتَ الآذَانِ فِیْ الْحَرْبِ وَکـَانَ رُبَّمَا نَزَعَ َقَلَنْسُوَتَہ فَجَعَلَھَا سُتْرَۃً بَیْنَ یَدَیْہِ وَھُوَ یُصَلِّی یعنی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم عمامہ شریف کے نیچے ٹوپی پہنتے تھے اور عمامہ کے بغیر ٹوپی اور ٹوپی کے بغیر عمامہ شریف بھی پہنتے تھے اور آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہِ وَ اٰلہ وَ سَلَّم سفید کڑھائی والی یمنی ٹوپی پہنتے تھے اور جنگ میں کانوں والی ٹوپی پہنتے تھے، بعض اوقات اپنی ٹوپی اتار کر اسے سترہ بنا کر نماز پڑھتے تھے۔ (کنز العمال، کتاب الشمائل، قسم الاقوال، الجز:۷، ۴/۴۶، حدیث:۱۸۲۸۲)