Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
45 - 479
صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کی سنّتِ متواترہ ہے جس کا تواتر یقینا سرحدِ ضروریاتِ دین (1) تک پہنچا ہے ولہٰذا علمائے کرام نے عمامہ تو عمامہ اِرسالِ عَذَبَہ یعنی شملہ چھوڑنا کہ اُس کی فرع اور سنّتِ غیرِ مؤکدہ ہے یہاں تک کہ مرقاۃ میں فرمایا: قَد ثَبَتَ فِی السِّیَر بِرِوایاتٍ صَحِیحَۃٍ اَنَّ النَّبِیّ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کَان یَرخٰی عَلامتَہ اَحیَاناً بَینَ کَتِفَیہِ وَ اَحیَاناً یَلبَسُ العِمَامَۃَ مِن غَیرِ عَلامَۃٍ فَعُلِم اَنَّ الاِ تیَانَ بِکُلِّ وَاحِدٍ مِّن تِلکَ الاُمُورِ سُنّّۃٌ (یعنی) کتب سِیر میں روایاتِ صحیحہ سے ثابت ہے کہ نبی ٔاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم کبھی عمامہ کا شملہ دونوں کاندھوں کے درمیان چھوڑتے کبھی بغیر شملہ کے باندھتے۔ اس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ ان امور میں سے ہر ایک کو بجا لانا سنّت ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ، کتاب اللباس ، الفصل الثانی، ۸/۱۴۶، تحت الحدیث:۴۳۳۹) اس کے ساتھ اِستِہزا (مذاق) کو کفر ٹھہرایا کَمانَص عَلیہِ الفُقَھائُ الکِرَام وَاَمَرُوابِتَرکہ حَیثُ یَستَھزِئُ بِہ العوامُ کَیلا یَقَعوا فِی الھَلاکِ بِسُوئِ الکَلامِ (جیساکہ فقہاء کرام نے اس پر تصریح کی ہے اور وہاں اسکے ترک کا حکم دیا جہاں عوام اس پر مذاق کرتے ہوں تاکہ وہ اس کلام بد سے ہلاکت میں نہ پڑیں ) تو عمامہ کہ سنّتِ لازِمہ دائمہ ہے۔ اس کا سنّت ہونا مُتَواتِر ہے اور سنّتِ متواتر کا اِستِخفَاف (یعنی ہلکا جاننا) کفر ہے۔ 


1…ضروریاتِ دین کی تعریف:ضروریاتِ دین اسلام کے وہ احکام ہیں جن کو ہر خاص و عام جانتے ہوں۔  (کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص۴۱)