عبدالمنان اعظمی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے عمامہ شریف کے متعلق پوچھے گئے سوالات مع جوابات ذکر کئے گئے ہیں
(سوال) عمامہ باندھ کر سفر کرنا، دوکان پر بیٹھنا، خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟
(جواب) عمامہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی عمومی سنّت ہے۔ توسفر حضر اور کاروبار کی حالت میں ہر وقت باندھنا سنّت ہے، البتہ حالتِ نماز میں اس کی خصوصیت زیادہ ہے کہ اس حالت میں ثواب بہت زیادہ ہے۔
(سوال) صرف ٹوپی پہننا سنّت ہے یا نہیں ؟
(جواب) بزازیہ میں ہے ’’ لَا بَأسَ بِلُبسِ القَلَانِیسِ وَ قَد صَحَّ اَ نَّہٗ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَلبَسُھَا‘‘ٹوپی پہننے میں کوئی مضائقہ نہیں اور حدیثِ صحیح سے ثابت ہے کہ حضورِ اَقدَس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم ٹوپی پہنتے تھے۔
(فتاویٰ بحرالعلوم، ۵/۴۱۲)
عورتوں کا عمامہ باندھنا کیسا؟
عورتوں کا عمامہ باندھنا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ مردوں کے ساتھ خاص ہے اس میں مردوں سے مشابہت پائی جاتی ہے چنانچہ حضرت سیّدنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہ روایت فرماتے ہیں : لَعَنَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الرَّجُلَ یَلْبَسُ لِبْسَۃَ الْمَرْاَۃِ وَالْمَرْاَۃَ تَلْبَسُ لِبْسَۃَ الرَّجُلِ یعنی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَالِہٖ وَسَلَّمْ