Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
435 - 479
 نے عورتوں جیسا لباس پہننے والے مرد اور مردوں جیسا لباس پہننے والی عورت پر لعنت فرمائی ہے ۔ اس مسئلے کے بارے میں میرے آقا اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیہِ رَحمَۃُ الرَّحمٰن فرماتے ہیں : زَنانِ عرب جو اوڑھنی اوڑھتیں حفاظت کے لئے سرپرپیچ دے لیتیں اس پر ارشاد ہوا کہ ایک پیچ دیں دو نہ ہوں کہ عمامہ سے مشابہت نہ ہو۔ عورت کو مرد، مرد کو عورت سے تَشَبُّہ حرام ہے۔ امام احمد وابوداؤد وحاکم نے بَسندِ حسن اُمُّ المومنین اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنہَا سے روایت کی: اَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَیْہَا وَہِیَ تَخْتَمِرُ فَقَالَ لَیَّۃً لَا لَیَّتَیْنِ نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَسَلَّم سیّدہ اُمِّ سلمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنہَا کے ہاں تشریف لے گئے تو (کیادیکھا) کہ وہ اوڑھنی اوڑھ رہی ہیں تو ارشاد فرمایا: سرپر صرف ایک پیچ دو ، دو(۲)پیچ نہ ہوں۔ (ابوداؤد، کتاب اللباس، باب فی الاختمار، ۴/۸۸، حدیث:۴۱۱۵) تیسیر شرح جامع صغیر میں ہے : حَذراً مِنَ التَّشَبُّہِ بِالمُتَعَمِّمِینَ اس خطرہ سے کہ کہیں پگڑی باندھنے والے مردوں سے مشابہت نہ ہو جائے۔ (التیسیر شرح جامع الصغیر، حرف اللام، ۲/۳۳۵) دیکھو تمام زَنانہ لباس دفعِ تَشَبُّہ (مشابہت دور کرنے )کے لئے کافی نہ ہوا صرف دوپٹہ کے سر پر دو پیچ مُورِثِ تَشَبُّہ (مشابہت پیدا کرنے والے ) ہوئے۔ 
(فتاویٰ رضویہ ، ۲۴/۵۳۶)