خوبصورت اور بڑا سا عمامہ دیکھا اور یہ بھی دیکھا کہ ایک راہبہ عورت پر جامع مسجد میں لوگ نمازِ جنازہ پڑھنے کا ارادہ کر رہے ہیں جبکہ کچھ مؤذنین اس جنازے کے آگے کلمۂ توحید پڑھ رہے ہیں۔ پھرا نہوں نے اس جنازے کی چادر ہٹائی تو اس کا کفن سیاہ تھا۔ میں اس جنازے پر کہے جانے والے کلمۂ توحید کے بارے میں جھگڑ رہا تھا۔ (علامہ نابُلُسی رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں ) میں نے تعبیر بتاتے ہوئے اس شخص سے کہا: تو ایسا شخص ہے کہ تیری زوجہ تجھ سے راضی ہے اور تجھ سے محبت کرتی ہے اور تیرا سسر تجھ پر ناراض ہے اور بعض لوگ تیرے اور تیری زوجہ کے درمیان جدائی کی بات کر رہے تھے تو تو ان سے جھگڑ رہا تھا۔ تو خواب دیکھنے والے نے کہا: ’’معاملہ ایسا ہی ہے جیسے آپ نے فرمایا۔ ‘‘ پھر خواب دیکھنے والے نے کہا: میں نے اپنی آنکھوں میں اس مردہ راہبہ کو شیشے کی مانند دیکھا۔ تو علامہ نابُلُسی رَحمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: تیری زوجہ کا والد دنیا کے متعلق دھوکے میں مبتلا ہے۔ تو خواب دیکھنے والے نے کہا: جی ہاں معاملہ ایسا ہی ہے۔ اس واقعے کو ابھی چند روز ہی گزرے تھے کہ اس عورت کا باپ فوت ہو گیا۔
(تعطیرالانام ، باب العین ، ص۲۵۴)
عمامے کے متفرق مسائل
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ذیل میں بَحرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی