Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
428 - 479
 جائز نہیں نیز عدمِ جواز اس صورت میں ہے جب کھانے میں چکنائی یا ایسی بو ہو جو کپڑے میں ناپسند ہوتی ہے اگرچہ کھانے میں پسندیدہ ہو ورنہ بظاہر اس سے کوئی مَانِع نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ ، جز الف ، ۱/۳۳۵، ملتقطاً) 
خعمامہ شریف کے شملے سے منہ صاف نہیں کرنا چاہئے کہ یہ ادب کے خلاف ہے۔ (مسلمانن جو تاج، ص۱۰۵) 
خشیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اپنی مشہور تالیف ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ صفحہ 207 پر نقل فرماتے ہیں : ’’کسی سنّت کی تحقیر (یعنی توہین ) کرے مَثَلاً داڑھی بڑھانا، مونچھیں کم کرنا، عمامہ باندھنا یا شملہ لٹکانا، ان کی اِہانَت (یعنی گستاخی) کفر ہے جب کہ سنّت کی توہین مقصود ہو۔‘‘ (بہارِ شریعت، ۲/۴۶۳) 
خامیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ فرماتے ہیں : کسی سے کہا کہ یہ کیا تُونے عِمامہ وغیرہ پاگلوں والا لباس پہنا ہوا ہے! یہ کلِمہ کُفْرہے۔ 
(کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب، ص۴۲۱) 
خامیرِاہلسنّت دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ اسی کتاب کے صفحہ 22 4 پر نقل فرماتے ہیں : ’’عمامہ شریف کو زمین پر دے مارنا یا پھاڑ ڈالنا یا جلا دینا یہ تینوں باتیں اگر سُنَّت