Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
427 - 479
 جس طرح لپیٹا ہے اُسی طرح اُودھیڑا (کھولا) جائے۔ (بہار شریعت ، ۳/۴۱۹) 
خپاجامہ کا تکیہ نہ بنائے کہ یہ ادب کے خلاف ہے اور عمامہ کا بھی تکیہ نہ بنائے۔
(بہارشریعت، ۳/۶۶۰) 
 	حضرت علامہ سیّد محمد امین ابن عابدین شامی قُدِّسَ سِرُّہُ السَّامِی نِسیان کا سبب بننے والی اشیا ء کو ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :’’شلواریاعمامے کو تکیہ بنانے سے نسیان (بھول جانے کی بیماری )پیدا ہوتی ہے۔‘‘ 
(رد المحتار، کتاب الطہارۃ، فصل فی البئر،مطلب ست تورث النسیان، ۱/۴۲۸) 
خملِک العلماء علامہ ظفرالدین بہاری عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے حوالے سے ذکر فرماتے ہیں کہ سر کے نیچے عمامہ یا مصلیٰ یا پائجامہ رکھنا ممنوع کہ عمامہ و مصلیٰ رکھنے سے عمامہ اور مصلیٰ کی اور پائجامہ رکھنے سے سر کی بے حرمتی ہے۔ نیز عمامہ کے شملہ سے ناک یا منہ پونچھنا نہ چاہیے۔ 
(حیاتِ اعلیٰ حضرت، ۳/۹۰)
خکھانا کھانے کے بعد عمامہ شریف سے ہاتھ صاف نہیں کرنے چاہئیں ، چنانچہ امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضا خانعَلیْہ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں : (کھانا کھانے کے بعد ہاتھ پونچھنا) پہننے کے کپڑوں اور عمامہ سے ناجائز اسی لئے ہے کہ پونچھنے سے وہ خراب ہو جائیں گے اور مال کو خراب کرنا