Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
426 - 479
 اِحتیاط سے رکھ دیجئے یا دَفن کردیجئے یا پتھر وغیرہ وزن باندھ کر سمندر میں ڈبود یجئے ۔ (163 مدنی پھول، ص ۳۵)  عمامہ شریف کے متعلق بھی ہمیں انہی باتوں کا خیال رکھنا چاہئے کہ یہ بھی آلۂ ادائے سنّت ہے۔ 
خعارف باللہ علامہ فَقِیرُاللہ علوی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی (مُتَوَفّٰی ۱۱۹۵ھ) جو کہ شیخ الاسلام علامہ محمد ہاشم ٹھٹھوی عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی کے شاگرد اور زبردست عالم و صوفی بزرگ ہیں فرماتے ہیں : بیت الخلاء میں مُعَظَّم اشیاء جیسے عمامہ شریف ، مسواک اور کنگھی(ان کی تعظیم کی وجہ سے)نہ لے کر جانا مستحب ہے ۔  
(قطب الارشاد، ص ۱۶۵)
	شیخِ طریقت امیرِ اہلِسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی  دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ کا بھی معمول ہے کہ عمامہ اتار کر مگر سر ڈھانپ کر بیت الخلاء جاتے ہیں۔ 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یاد رہے عمامے سمیت بیتُ الخلاء جانا کوئی گناہ کا کام نہیں ہے جیسا کہ بَحرُالعُلُوم حضرت علامہ مفتی عبدالمنان اعظمی  عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ القَوِی فرماتے ہیں : پیشاب یا پاخانہ کے لیے ننگے سر جانا منع ہے، تو ٹوپی، عمامہ جو بھی پہنے ہو استنجا کے لیے جا سکتا ہے۔ (فتاویٰ بحر العلوم، ۵/۴۱۲) 
خعمامہ کو جب پھر سے باندھنا ہو تو اسے اتار کر زمین پر پھینک نہ دے، بلکہ