Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
425 - 479
بخش رکھنا۔ خلیفہ موصوف قدموں پر گر پڑے اور عرض کرنے لگے کہ حضور مجھ کو امید نہیں تو حضرت نے اپنے سرِ مبارک کا کلاہ عطا فرمایا اور ارشاد فرمایا کہ خدا کی ذات سے مجھ کو امید ہے ، خلیفہ اِرادۃُ اللہ واپس ہوئے جلد ہی خدا کی قدرت ظاہر ہوئی بعدمدت معمول کے بیٹا پیدا ہوا، خلیفہ نے اس کا نام کریم بخش رکھا ،یہاں تک کہ تین سالوں میں تین بچے پیدا ہوئے اور تینوں کا نام حضرت کے بموجب رکھا، بعنایتِ الہٰی تینوں بیٹے جوان و عاقل ہوئے ، دو بیٹوں نے اپنا آبائی پیشہ اختیار کیا اور کریم بخش نے علومِ مُرَوَّجَہ سے فراغت کے ’’کریم اللغات‘‘ نامی کتاب تصنیف فرمائی۔ (تذکرہ مشائخ قادریہ رضویہ ،ص ۳۶۳)
عمامے کا احترام کیجئے 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بلاشبہ عمامہ شریف ادائے سنّت کا ذریعہ ہے اس لئے ہمیں اس کے ادب و احترام کا خیال رکھنا چاہئے ، ہر ایسے کام سے مکمل اِجتِناب کرنا چاہئے جو عمامہ شریف کی طرف انگلیاں اُٹھنے کا سبب بنے۔ شیخِ طریقت ، امیرِ اہلسنّت بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالیَہ مِسواک کے متعلق فرماتے ہیں کہ جب ناقابلِ اِستعمال ہوجائے تو پھینک مت دیجئے کہ یہ آلۂ ادائے سنّت ہے، کسی جگہ