Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
424 - 479
تبرک اپنے مستحق تک پہنچ گیا۔ (فتاویٰ رضویہ ، ۲۱/۴۰۹) 
تحفۂ مُرشِد کی اہمیت 
 	دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’آدابِ مرشد کامل‘‘ کے صفحہ 66پر ہے:’’مشائخِ کِبار رَحِمہُمُ اللہُ السَّلام نے فرمایا کہ جب مرشِد اپنے مرید کو کوئی کپڑا، عمامہ ، ٹوپی یا مِسواک مبارَک عطا فرمائے تو یہ ُدرُست نہیں کہ وہ اس کو کسی دُنیوی چیز کے بدلے میں بیچ ڈالے ۔ کیونکہ بسا اوقات مرشِد اس چیز میں مرید کے لئے کامل لوگوں کے اخلاص (یعنی خُصوصی فُیوض وبَرَکات) ڈال کر اس کے سِپُرد کرتے ہیں۔ (آدابِ مرشد کامل ،ص ۶۶) 
ولی اللہ کے عمامے کی برکت
	خلیفہ محمد اِرادۃُ اللہ بدایونی (عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی) حضرت سیّد شاہ آل احمد اچھے میاں مارہروی (عَلیْہ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی) کے مرید تھے جو ہمہ وقت اسی فکر میں رہتے تھے کہ خداوند تعالیٰ ایک بیٹا عطا فرمائے ؟ ایک مرتبہ حضور صاحبُ البرکات کے عرس میں اپنے مرشد کے رو برو کھڑے تھے ،دریائے سخاوت ِ عرفانی جوش پر تھا ارشاد فرمایا: اِرادۃُ اللہ کیا چاہتے ہو ؟انھوں نے عرض کیا کہ غلام کو کوئی فاتحہ خواں نہیں ہے ، حضرت نے فرمایا: ربّ کریم ہمارے اِرادۃُ اللہ  کو فرزند دیدے ، اس کے بعد فرمایا: خلیفہ! پہلے بیٹے کا نام کریم بخش رکھنا، دوسرے کا رحیم بخش رکھنا اور تیسرے کا الہٰی