سے کہا کہ یہ دونوں تبرک حضرت غوثِ اعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم) کے ہیں اور انھوں نے مجھے خواب میں حکم دیا ہے کہ یہ تبرکات ابوالقاسم اکبرآبادی (عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی) کو دے دو! یہ کہہ کر تبرکات ان کے سامنے رکھ دیے۔ خلیفہ ابوالقاسم (رَحْمَۃُ اللہ تَعالٰی عَلَیہ) نے تبرکات قبول فرما کر انتہائی مَسَرَّت کا اظہار کیا۔ اس شخص نے کہا: ’’یہ تبرک ایک بہت بڑے بزرگ کی طرف سے عطا ہوئے ہیں لہٰذا اس شکریے میں ایک بڑی دعوت کا انتظام کر کے رؤسائے شہر کو مدعو کیجئے۔‘‘ حضرت خلیفہ (رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیہ) نے فرمایا: ’’کل تشریف لانا ہم کافی سارا طعام تیار کرائیں گے آپ جس جس کو چاہیں بلا لیجئے۔ دوسرے روز علی الصباح وہ درویش رؤسائے شہرکے ساتھ آیا دعوت تناول کی اور فاتحہ پڑھی۔ فراغت کے بعد لوگوں نے پوچھا کہ آپ تو متوکل ہیں ظاہری سامان کچھ بھی نہیں رکھتے، اس قدر طعام کہاں سے مہیا فرمایا ہے؟ فرمایا: ’’اُس قیمتی جبے کوبیچ کر ضروری اشیاء خریدی ہیں۔‘‘ یہ سن کر وہ شخص چیخ اٹھا کہ میں نے اس فقیر کو اَہلُ اللہ سمجھا تھا مگر یہ تومَکّار ثابت ہوا، ایسے تبرکات کی قدر اس نے نہ پہچانی۔ آپ نے فرمایا: ’’چپ رہو جو چیز تبرک تھی وہ میں نے محفوظ کر لی ہے اور جو سامانِ امتحان تھا ہم نے اسے بیچ کردعوتِ شکرانہ کا انتظام کر ڈالا۔‘‘ یہ سن کر وہ شخص مُتَنَبِّہ ہو گیا اور اس نے تمام اہلِ مجلس پر ساری حقیقت حال کھول دی جس پر سب نے کہا کہ اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّوَجَلَّ