Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
422 - 479
کہ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَت بَرَکَاتُہُمُ العَالِیَہ فرماتے ہیں کہ میری آئیڈیل شخصیت امامِ اہلسنّت ، اعلیٰ حضرت شاہ احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن ہیں۔ 
غوثِ اعظم کی کُلاہ مبارک
	اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہْلِسُنّت، مُجَدِّدِدین و مِلَّت، حامیِٔ سنّت حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ شریف میں ایک واقعہ نقل فرماتے ہیں : حرمین شریفین میں ایک ایسا شخص مقیم تھا جسے حضرت غوث الاعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم) کی کلاہ (یعنی عمامہ) مبارک تبرکاً سلسلہ وار اپنے آباء و اجدادسے ملی ہوئی تھی جس کی برکت سے وہ شخص حرمین شریفین کے نواح میں عزت واحترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا اور شہرت کی بلندیوں پر فائز تھا ایک رات حضرت غوثُ الاعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم) کو اپنے سامنے موجود پایا جو فرما رہے تھے کہ’’یہ کلاہ خلیفہ ابوالقاسم اکبرآبادی (عَلَیْہ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی) تک پہنچا دو۔‘‘ حضرت غوث ِاعظم (عَلَیہ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم) کا یہ فرمان سن کر اس شخص کے دل میں آیاکہ اس بزرگ کی تخصیص لازماً کوئی سبب رکھتی ہے، چنانچہ امتحان کی نیت سے کلاہ مبارک کے ساتھ ایک قیمتی جبہ بھی شامل کرلیا اور پوچھ گچھ کرتے حضرت خلیفہ(رَحْمَۃُ اللہ تَعالٰی عَلَیہ) کی خدمت میں جا پہنچا اور ان