Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
421 - 479
شانِ اقدس میں گستاخی کرتے ہیں ، یہ خیال آتے ہی معاً مولانا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ہاں جو کوئی ادنیٰ حرف گستاخی کا شانِ اقدس میں بکے ضرور کافر کہنا، بے شک کافر ہے۔ پھر اعلیٰ حضرت سے فرمایا: ہمارا جی چاہتا ہے کہ اپنے موڑ کی ٹپیا (سر کی ٹوپی) تمہارے موڑ پر دَھردیں ، اور تمہارے موڑ کی ٹپیا اپنے موڑ (سر) پر رکھ لیں۔ اعلیٰ حضرت نے براہِ ادب سر جھکا دیا، مولانا نے اعلیٰ حضرت کی کُلاہ مبارک اپنے سر پر رکھ لی، اور اپنی کُلاہ مُقَدَّس اعلیٰ حضرت کے سر مبارک پر رکھ دی جو بطورِ تبرک اب تک محفوظ ہے۔ (حیاتِ اعلیٰ حضرت،۳ /۲۶۲) 
خلیفۂ اعلٰی حضرت کی اعلٰی حضرت سے محبت 
	خلیفہ ٔ اعلیٰ حضرت، حضرت علامہ سیّد سلیمان اشرف بہاری عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے بے حد محبت فرماتے تھے نہ صرف عقائد و نظریات میں آپ کی اِتباع فرماتے بلکہ ’’لباس اور وضع قطع میں بھی اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ رَبِّ العِزَّت کا ہی تتبّع فرماتے ، یہاں تک کہ عمامہ شریف بھی اسی انداز کا رکھتے جیسا کہ امامِ اہلسنّت شاہ احمد رضا خان عَلیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن استعمال فرماتے تھے۔‘‘ (علمائے اہلِ سنّت کی بصیرت و قیادت، ص ۳۹۷ بتصرف ) 
	میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! ہمیں بھی چاہیے کہ کسی اللہ والے کو اپنا آئیڈیل بنا لیں اور اس کی سیرت کو اپنا کر دنیا و آخرت کی بھلائیوں کے حقدار بن جائیں جیسا