Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
420 - 479
بڑے عالم ، ان کے والد اتنے بڑے عالم، اور وہ خود عالم، فقیر کے پاس کیا دَھرا ہے؟ پھر نرم ہو کر بکمالِ لطف فرمایا: تشریف لائیں۔ بعدِ ملاقات اعلیٰ حضرت نے مجلسِ میلاد شریف کے متعلق حضرت مولانا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے استفسار (یعنی سوال) کیا۔ ارشا د فرمایا: تم عالم ہو، پہلے تم بتاؤ۔ اعلیٰ حضرت نے فرمایا: میں مستحب جانتا ہوں۔ فرمایا: اب لوگ اسے بدعتِ حَسَنَہ کہتے ہیں اور میں سنّت جانتا ہوں۔ صحابہ (کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) جو جہاد کو جاتے تھے تو کیا کہتے تھے یہی نہ کہ مکہ میں نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم پیدا ہوئے ہیں ، اللہ تعالٰی نے ان پر قرآن اتارا، انہوں نے یہ معجزے دکھائے، اللہ تعالٰی نے ان کو یہ فضائل دیے، اور مجلسِ میلاد میں کیا ہوتا ہے؟یہی بیان ہوتے ہیں جو صحابہ (کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان) اُس مجمع میں بیان کرتے تھے، فرق اتنا ہے کہ تم اپنی مجلس میں لڑوا (لڈو) باٹتے ہو اور صحابہ اپنا موڑ (سر) باٹتے تھے۔ حضرت مولانا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اعلیٰ حضرت کو بکمالِ شفقت و محبت تین دن تک مہمان رکھا۔ ۲۹ ماہ مبارک کو رخصت کیا، جب عید سر پر آگئی۔ وقتِ رخصت فرشِ مسجد کے کنارے تک تشریف لائے۔ اعلیٰ حضرت (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے درخواست کی کہ مجھے کچھ نصیحت فرمائیے۔ فرمایا: تکفیر میں جلدی نہ کرنا۔ اعلیٰ حضرت (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے دل میں خیال کیا کہ میں تو اُس کو کافر کہتا ہوں جو حضورِ اقدس (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) کی