حضرت سیّدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا: جب وَہَب حالتِ کفر میں یہاں آیا تھا تو میرے نزدیک ایک خنزیر سے بھی بدتر تھا اور اب قبولِ اِسلام کے بعد یہی وَہَب بن عمیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مجھے میری سگی اَولاد سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔
(معجم کبیر، باب العین ، عمیر بن وھب ، ۱۵/۶۲، حدیث:۱۲۰)
شاہ فضل رحمن کی اعلٰی حضرت پر کمالِ شفقت
مَلِکُ العُلَمَاء ، حضرت علامہ ظفرالدین بہاری عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی نقل فرماتے ہیں : مَدَّاحُ الحبیب مولوی جمیل الرحمن خان صاحب (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) نے دربار فضائل میں ذکر کیا کہ ۱۲۹۳ھ ماہ مبارک رمضان شریف میں کہ اعلیٰ حضرت کی عمر شریف ۲۱ سال کی تھی، حضرت مولانا شاہ فضل رحمن(1) صاحب (رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ) سے ملنے تشریف لے گئے۔ ایک جگہ قیام فرما کر اپنے دو ہمراہیوں کو حضرت کی خدمت میں بھیجا اور تاکید فرمائی کہ صرف اتنا کہنا، ایک شخص بریلی سے آیا ہے، حضور سے ملنا چاہتا ہے۔ انہوں نے جا کر کہا۔ حضرت مولانا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: وہ یہاں کیوں آئے ہیں ، ان کے دادا اتنے
1… حضرت مولانا شاہ فضل رحمن گنج مرادآبادی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْھَادِی زبردست عاشقِ رسول اور بلند پایہ صوفی بزرگ تھے ۔ حضرت مولانا وصی احمد محدث سورتی عَلیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی آپ ہی کے خلیفہ مجاز ہیں۔