Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
42 - 479
کی امّت کے ہر فرد سے مطالبہ کیا گیا ہواور ہر دن، ہر زمانے میں جس کی مَشروعِیَّت پر ائمّۂ دین کا اتّفاق ہو جیسے عمامہ شریف، تو ایسی چیز محض لوگوں کے ترک کر دینے سے ختم نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی سنّتِ عظیمہ کو بالکل چھوڑ دینا بہت بُرا ہے اور اس کے ترک پر ہمیشگی اختیار کرلینا خصوصاً نمازوں ، عیدین، مسجد کی حاضری اورلوگوں کی محفلوں میں ( اس کا ترک کرنا) اس سے بھی زیادہ برا ہے کیونکہ ایسی صورت میں سنّتوں میں سے ایک سنّت کوختم کرنااور اس کے مقابلے میں کسی غیرِسنّت (یعنی بدعت) کو زندہ کرنا ہے۔’’ شَرحُ الْمِنہَاج‘‘ میں حضرت سیّدنا ابنِ حجر مکّی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الْقَوِی کا قولِ مبارک ہے کہ اگر کسی جگہ بالکل عمامہ شریف ترک کردیا جائے تو لوگوں کی ترکِ عمامہ کی عادت کے سبب عمامہ کی سنّت کو ختم نہیں کیا جا سکتا، بلکہ ایسے پُر آشوب وقت میں اس عظیم سنّت کو اپنانا حضور عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلَام کی سنّت کو زندہ کرنا ہے جس کے بارے میں آپ عَلَیْہِ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلَام کا ارشادِعظَمت نشان ہے:جس نے میری ایسی سنّت کو زندہ کیا جو میرے بعد مٹ چکی تھی(یعنی اس پرعمل ترک کیا جا چکا تھا) تو اسے ان تمام لوگوں کے اجر کے برابر ثواب ملے گاجو اس سنّت پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب میں بھی کچھ کمی نہیں ہوگی اور ایسے ہی یہ فرمانِ رسول بھی ہے کہ جس نے میری امّت میں فساد کے وقت میری سنّت کو تھامے رکھااس کے لیے ایک شہید کا ثواب ہے۔