جس پر دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم نے مُداوَمَت (ہمیشگی) فرمائی ہے۔ سفرو حضر میں بھی سرِ اقدس پر عمامہ شریف جگمگاتا تھا۔ حضرت علامہ علی بن سلطان المعروف مُلاعلی قاری عَلَیہ رَحمَۃُ اللہِ البَارِی عمامہ شریف پر لکھے گئے اپنے رسالے میں فرماتے ہیں کہ حضورِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیہ وَاٰلہ وَسَلَّم کے عمامہ شریف باندھنے کے بارے میں احادیثِ مبارکہ اور آثارِ صحابہ (1)کی اتنی کثرت ہے کہ وہ توَاتُر بالمعنی (2) کو پہنچ جائیں۔
(المقالۃ العذبۃ فی العمامۃ و العذبۃ ، ص۸)
کیا عمامے کی ہو بیاں عظمت
تیری نعلین تاجِ سر آقا
حضرت سیّدنا امام جعفر کتّانی حَسَنی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الغَنِی ارشاد فرماتے ہیں : جو چیز اسلام کا شِعار (علامت) ہواور کافر وں اور مسلمانوں کے درمیان فرق کرنے والی ہواور دلائلِ شرعیّہ میں (استحبابی طور پر) جس کے عمل کانبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہ وَسَلَّم
1…آثارِ صحابہ سے مراد وہ اقوال و افعال ہیں کہ جو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی طرف منسوب ہوں۔
2…توَاتُر بالمعنی سے مراد ایسی خبرہے کہ جس کے معانی متواتر ہوں الفاظ مُتواتِر نہ ہوں۔ یعنی کوئی معنی اتنی بڑی تعداد سے روایت کئے گئے ہوں کہ جن کا جھوٹ پر جمع ہونا عقلاً ممکن نہ ہو۔