’’تیسیر‘‘ (شرح جامع صغیر) میں حضرت علامہ عبدالرؤف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ اْلھَادِی اس کی شرح میں فرماتے ہیں : یہ اجراس لیے ہے کہ فساد کے غلَبہ کے وقت سنّتِ رسول کو تھامے رہنے والا کوئی مددگار نہیں پائے گا (کہ جو اس کی حوصلہ افزائی کرے) بلکہ اس کے برعکس اس کو تکلیف پہنچائی جائے گی اور اس کی توہین کی جائے گی، پھر اس کا ان آزمائش پر صبر کرتے رہنا اس کے درَجات کو بَلند کرتا رہے گا یہاں تک کہ وہ شُہَداء کے مقام و مرتبے تک پہنچ جائے گا۔
(الدعامہ فی احکام سنۃ العمامۃ، ص ۱۸ملخصاً)
عمامہ کے متعلق اقوالِ صحابہ
امیر المؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : اَلعَمائِمُ تِیجَانُ العَرَب یعنی عمامے عرب کے تاج ہیں۔ (البیان و التبیین ، باب من کلام المحذوف، ۲/۲۸۷)
امیر المؤمنین حضرت سیّدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْھَہُ الکَرِیم فرماتے ہیں : تَمَامُ جَمَالِ الرَّجُلِ فِی عِمَّتِہِ یعنی آدمی کے حُسن و جمال کی تکمیل اس کے عمامے سے ہی ہوتی ہے ۔ (الآداب الشرعیۃ، فصل فی انواع اللباس الخ ، ۳/۵۰۱)
اَعرابی کے نزدیک عمامے کی اہمیت
ایک اَعرابی عمامہ شریف کا بہت اہتمام کیا کرتے تھے۔ ان سے