Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
418 - 479
سلام سے نوازا ہے۔ اس نے کہا میرا آپ سے ایک معاہدہ ہے اس کے بارے میں بات کریں ، یقیناً آپ قابلِ تعریف ہیں۔ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: یہ بتاؤ تم یہاں کیسے آئے ہو؟ وہ بولا اس قیدی کا فدیہ دینے آیا ہوں جو آپ کے پاس ہے۔ حضورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا : تو پھر یہ تلوار کیسی ہے؟ وہ کہنے لگا: ہم نے اسے بدر میں اٹھایا تھا مگر کامیابی حاصل نہ ہوئی۔ دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے غیب کی خبر دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: تو وہ کیا تھا جو تو نے صَفوان سے کہا تھا کہ اگر میرے بیوی بچے نہ ہوتے اور مجھ پر قرضہ نہ ہوتا تو میں خود محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) کو قتل کرتا۔ وَہَب حیران ہو تے ہوئے بولا آپ یہ بات کیسے کہہ رہے ہیں ؟ تو حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے پھر وہی ارشاد فرمایا۔ وَہَب بولا: آپ ہمیں زمین والوں کی خبریں دیتے تو ہم آپ کو جھٹلایا کرتے تھے حالانکہ میں آپ کو آسمانی خبریں دیتے دیکھ رہا ہوں۔ میں گواہی دیتا ہوں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سچے رسول ہیں۔ (اسلام قبول کر لینے کے بعد) وَہَب بن عُمیر نے عرض کی : یَارَسُوْلَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم! مجھے اپنا عمامہ شریف عطا فرما دیجئے ۔ توآپ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے اپنا مبارک عمامہ عطا فرما دیا۔ پھر حضرت وَہَب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  مکہ شریف آ گئے۔