Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
417 - 479
 صَفوان بن اُمَیَّہ نے وہب کے یہ جذبات دیکھے تو اُس نے موقع غنیمت جانا اور کہا: تو اپنے قرضے اور بچوں کی فکر مت کر ، تیرا قرضہ میرے ذمہ رہا، تیرے بال بچے میرے بچوں کے ساتھ رہیں گے، اُن کی ذمہ داری میں لیتا ہوں۔ صَفوان بن اُمَیَّہ نے اپنی تلوار تیز کرنے کے بعد زہر آلود کرکے وَہَب بن عُمیر کو تھما دی اور وہ مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہو گیا۔وہ یہاں صرف نبی ٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کو شہید کرنے کے ارادے سے آیا تھا جب وہ پہنچا اُسی وقت امیر المؤمنین حضرت عمر فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی نظر وَہَب بن عُمیر پر پڑ گئی اُسے دیکھ کر آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اپنی کمالِ فراست کے ذریعے جان لیا کہ معاملہ خطرناک ہے ، آپ  رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا کہ میں نے وَہَب کو ادھر آتے دیکھا ہے وہ ایک دھوکے باز شخص ہے آپ لوگ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے پاس پہنچیں اور اِس کے شرسے حفاظت کریں تو صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے گرد گھیرا ڈال لیا۔ وَہَب نبی ٔاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کے پاس پہنچا اور زمانہ جاہلیت کا سلام کرتے ہوئے بولا: اَنْعِم صَبَاحاً یَامُحَمَّد یعنی اے محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) نعمتوں میں صبح کرتے رہو۔ آپ  صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا: قَدْ اَبدَلَنَا اللہُ خَیراً مِنْھا یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ہمیں اس سے بہتر