عمامے کے پیسے یا اس سے بھی زائد دیتا ان کے جَدِّ اَمْجَد صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم کی وجہ سے۔ اسی مرید کا بیان ہے کہ بعد میں جب میری ان سیِّد زادے سے ملاقات ہوئی تو میں نے انہیں اپنے پیر صاحب کی ساری بات بتائی۔ میری بات سن کر انہوں نے ارشاد فرمایا: رات ہی آپ کے پیر صاحب نے مجھے تحفۃً عمامہ شریف بھیجا ہے جو ابھی میرے سر پر ہے۔
(العھود المحمدیہ، قسم المامورات، ۱/۷۰)
بزرگوں سے بطورِ برکت عمامہ لینا
حضرت سیّدنا اَنَس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : وَہَب بن عُمیر نامی کافر جنگِ اُحد میں زخمی ہو گیا وہ میدانِ جنگ میں ہی تھا کہ اس کے پاس سے ایک انصاری کا گزر ہوا۔ وَہَب نے اسے پہچان کر بے دردی سے شہید کر دیا۔ رات کے وقت جب اسے سردی نے آ گھیر ا تو یہ مکہ آ پہنچا۔ جہاں اس نے صَفوان بن اُمَیَّہ سے خفیہ ملاقات کی ۔ وَہَب نے کہا: اگر میرے اوپر قرضہ نہ ہوتا اور بیوی بچوں کے ضائع ہونے کا خدشہ دامن گیر نہ ہوتا تو (مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ) میں خود جا کر محمد (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم) کو قتل کر کے آتا۔ صَفوان نے پوچھا تم یہ کام کیسے کرو گے؟ تووَہَب نے کہا میں بہترین گھڑسوار ہوں ان تک پہنچ جاؤں گا اور غفلت میں پا کر انہیں قتل کر دوں گا اور واپس آجاؤں گا مجھ تک کوئی نہ پہنچ سکے گا۔