آتا اور آپ کے پاس اسے دینے کے لئے کچھ نہ ہوتا تو اپنے عمامے شریف کا ہی کچھ حصہ کاٹ کر عنایت فرما دیتے۔ (طبقات الشافعیۃ للسبکی، الطبقۃ السادسۃ فیمن توفی بین الستمائۃ والسبعمائۃ،۸/۲۱۴)
سیّد زادے کو عمامہ پیش کر دیا
حضرت سیِّدنا شیخ زکریا رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کے ایک مرید بیان کرتے ہیں کہ ایک روز ایک سیّد زادے ہمارے پیر صاحب کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے :یَاسَیِّدی رات میرا عمامہ کچھ لوگوں نے چھین لیا، برائے کرم مجھے عمامہ خریدنے کے لیے کچھ پیسے عنایت فرمادیجیے۔ پیر صاحب نے خیر خواہی فرماتے ہوئے انہیں کچھ رقم پیش فرمائی۔ جسے ان سیّد صاحب نے واپس لوٹا دیا ، پیر صاحب نے قبول بھی فرمالیا۔ سیّد صاحب کے ساتھ اپنے شیخ کے یہ معاملات دیکھ کر میں نے ان سے اِستِفسار کیا: حضور! عمامہ شریف کے لئے اتنی تھوڑی سی رقم؟ اس پر پیر صاحب نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کی موجودگی میں کسی پر صدقہ اور احسان کرنا گناہ ہے (جبکہ اس میں دکھاوا اور ریاکاری ہو) اور اللہ عَزَّوَجَلَّ مجھ سے (اور تمام لوگوں سے) ایسے صدقے کو پسند فرماتا ہے جو لوگوں سے چھپا کر دیا جائے بس اسی وجہ سے میں اپنے تَصَدُّق کو کسی بندے پر ظاہر نہیں کرتا، ہاں اگر وہ کسی ایسے وقت میں تشریف لاتے کہ جب میرے پاس کوئی موجود نہ ہوتا تو میں ا نہیں