۲۴ رمضان ذیشان ۱۳۳۱ ھ میں اعلیٰ حضرت عظیم البرکت فاضلِ بریلوی قُدِّسَ سِرُّہُ القَوِی کی ملاقات کے لئے پہنچے، مغرب کا وقت تھا، جماعت قائم ہو چکی تھی، نمازِ مغرب کی پہلی رکعت تھی اعلیٰ حضرت امامت فرما رہے تھے۔ شاہ صاحب بھی جماعت میں شامل ہو گئے نمازِ مغرب کے قعدہ ٔ اخیرہ میں اعلیٰ حضرت فاضلِ بریلوی کو حضور پُر نور سرکارِ غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اِلقا فرمایا کہ خواجہ احمد حسین حاضر ہیں ان کو اجازتِ تامّہ عطا کر دیجئے۔ اعلیٰ حضرت نے سلام پھیرتے ہی اپنے سر کا عمامہ اتارکر خواجہ احمد حسین شاہ صاحب کے سر پر رکھ دیا اور احادیث و اعمال و اِشغال اور سَلاسِل کی اجازت ِ تامّہ عطا فرمائی نیز فِی البَدِیہہ ’’تَاجُ الفُیُوض‘‘ کا لقب بھی عطا فرمایا جس سے سن ۱۳۳۱ھ نکلتی ہے۔ خواجہ احمد حسین صاحب نے عرض کیا کہ حضور ابھی تو آپ سے گفتگو کا شرف بھی حاصل نہیں ہوا اور اس فقیر پر آپ کی یہ عنایتیں ، اعلیٰ حضرت نے فرمایا: ابھی نماز کے قعدۂ اخیرہ میں میرے سرکار غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی طرف سے میرے قلب پر اِلقا ہوا کہ خواجہ احمد حسین حاضر ہیں ان کو اجازت ِ تامّہ دے دیجئے۔ (تجلیاتِ امام احمد رضا، ص ۱۲۳)
حضور نے عمامہ تحفے میں دیا
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ کتاب ’’صحابہ کرام کا عشق رسول‘‘ کے صفحہ 166 پر ہے{1} ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو