Brailvi Books

عمامہ کے فضائل
411 - 479
 باپ میرے والد( امیرُالمؤمنین حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ) کا دوست تھا۔ (مسلم ، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل صلۃ اصدقاء الاب الخ، ص ۱۳۸۲، حدیث:۲۵۵۲) 
	دوسری روایت میں ہے: حضرت سیّدنا عبداللہ ابنِ عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فرما یا :بے شک رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّم نے فرمایا : ’’اپنے والد کے دوستوں اور اہلِ محبت کے تعلق کی حفاظت کرو، اسے ختم نہ کرو ورنہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  تمہارے (ایمان کے )نور کو بجھا دے گا۔‘‘ (شعب الایمان، باب فی بر الوالدین، فصل فی حفظ حق الوالدین بعد موتہما ، ۶/۲۰۰، حدیث:۷۸۹۸) 
	حضرت سیّدنا مُغِیرَہ بن شُعبَہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  نے اپنا عمامہ حضرت سیّدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے مشہور غلام حضرت یَرفَأ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو دیتے ہوئے فرمایا : ’’اسے باندھ لو میرے پاس (باندھنے کے لئے) اس جیسا دوسرا عمامہ ہے۔ ‘‘(الاصابۃ ، حرف المیم ، المیم بعدہا الغین، المغیرۃ بن شعبۃ ، ۶/۱۵۷، رقم:۸۱۹۷) 
اعلٰی حضرت نے اپنا عمامہ عطا فرما دیا 
	مَجمَعُ السَّلاسِل ، عَارِف بِاللہ حضرت مولانا شاہ خواجہ احمد حسین صاحب نقشبندی مجدّدی اَمروہوی کو سرکار ِغوثیت رَضِیَ اللہُ تَعالٰی عَنْہ سے اشارہ ہوا کہ مولانا شاہ احمد رضا خاں سے ملاقات کیجئے لہٰذا حضرت خواجہ احمد حسین صاحب