رنگ کا عمامہ باندھا کرتے تھے۔ (تہذیب الاسماء و اللغات ، حرف العین، ۳/۲۲۶)
عربوں کے متعلق کہا جاتا ہے کہ : اُختُصَّتِ العَرَبُ بِاَربَع: اَلعَمَائِمُ تِیجَانُہَا ، وَالدُّرُوعُ حِیطَانُہَا ، وَالسُّیُوفُ سِیجَانُہا ، وَ الشِّعر دِیوَانُہَا یعنی عربوں کو چار چیزوں سے خاص کیا گیا ہے : (1)عمامے عربوں کے تاج (2) زرہیں ان کی دیواریں (3) تلواریں ان کی چادریں (4) اور شعر اُن کے دیوان ہیں۔ (الموسوعۃ العربیۃ العالمیۃ، العمامۃ ، ص ۱)
تین چیزیں عرب کا شعار ہیں
حضرت سیّدناامام مالک عَلَیہِ رَحمَۃُ اللہِ الخَالِق فرماتے ہیں :’’ عمامہ شریف باندھنا، اِحتِباء (1) کرناا ور جوتے پہننا عرب کا طریقہ ہے یہ وہ کام ہیں جو عجم میں نہ تھے ، عمامہ شریف باندھنا تو اسلام کی ابتداء سے ہی ہے جو کہ اب تک بھی جاری و ساری ہے ۔‘‘(شرح البخاری لابن بطال، کتاب اللباس، باب العمائم، ۹/۸۹)
عمامہ شریف کی اہمیت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! عمامہ شریف باندھنا ایسا مقدس عمل ہے
1…اِحتِبا کی صورت یہ ہے کہ آدمی سرین کو زمین پر رکھ دے اور گھٹنے کھڑے کرکے دونوں ہاتھوں سے گھیر لے اور ایک ہاتھ کو دوسرے سے پکڑ لے اس قسم کا بیٹھنا تَواضُع اور اِنکسار میں شمار ہوتا ہے۔