جو میری اس بدلتی کیفیت کودیکھ کر خوش ہو رہے تھے بس میری حالت غیر ہوتی چلی گئی اور مجھ پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی نجانے کب بیان ختم ہوا مجھے اس کاپتہ ہی نہ چلا۔ کافی دیر بعد جب میری حالت کچھ سنبھلی تو میں نے دیکھا کہ میرے والد صاحب اور بیان کرنے والے مبلغِ اسلامی بھائی میرے قریب بیٹھے ہیں اور میرے والد صاحب ان مبلغ اسلامی بھائی کومیر ے حالات بیان کر رہے تھے ۔ مبلغِ دعوتِ اسلامی میرے حالات کا سن کرنہایت افسردہ ہو گئے۔ اور پھر انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے نہایت اَحسن اَنداز میں قبر و آخرت کی تیاری کا ذہن دیا اور مدنی ماحول کی بہاریں بیان کیں ان کی انفرادی کوشش کے سبب میرے اندر یہ احساس پیدا ہوا کہ میں کس قدر گناہوں کے دلدل میں دھنس چکا ہوں اور یوں ایک بارپھر میں اپنے گناہوں کو یاد کر کے رونے لگ گیا اور اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حضور اپنے گناہوں سے توبہ کرنے لگا ، مجھے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا اس اسلامی بھائی نے مزید اِنفرادی کوشش جاری رکھتے ہوئے مجھے دعوتِ اسلامی کے مدنی قافلے میں سفر کرنے کاذہن دیا اور ہاتھوں ہاتھ مجھے مدنی قافلے میں سفر کے لیے تیار کر لیا ، میں نے بھی انکار نہیں کیا اور فوراً ہی 45 دن کے مدنی قافلے میں سفر کے لئے تیار ہو گیا مجھے ہاتھوں ہاتھ باب الاسلام سندھ میں سفر کرنے والے عاشقان رسول کے ہمراہ مدنی قافلے کا مسافر بنا کر بھیج دیا گیا یوں میں مدنی قافلے